واقف کا جائیداد وقف سے خود نفع اٹھانا
سوال
واقف نے اگر بوقت تحریر وقف نامہ شرط لگائی کہ میں تاحیات خود اراضی موقوفہ زرعی وسکنی سے بذات خود فائدہ اٹھاؤں گا اور اپنے تصرف میں لاؤں گا تو یہ شرط لگانا اور جائیداد موقوفہ سے فائدہ اٹھانا با وجود اس کے کہ وہ غنی ہو جائز ہے یا نہیں اور یہ جائز ہے یا نہیں اور یہ وقف ہے یا نہیں اور وہ صحیح ہے یا نہیں؟ ۲- اگر واقف بوقت تحریر وقف نامہ مذکورہ غنی نہ ہو اور کچھ مدت گذرنے کے بعد مالدار ہو جائے تو جائیداد موقوفہ مذکورہ سے واقف اس وقت فائدہ اٹھا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
۲- شرط مذکورہ کیوجہ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے کذا فی الہندیہ ص: ۹۷۵ ۳- اگر ان سب کے فائدہ اٹھانے کے لئے محتاج ہونے کی شرط نہیں کی تو سب کو نفع حاصل کرنا درست ہے اگر محتاج ہونے کی شرط کی ہے تو مالدار کو نفع حاصل کرنا درست نہیں محتاج کو درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔