باغ وقف کر کے اس کی زمین سے خود نفع اٹھانا
سوال
ایک شخص نے اپنا قلمی باغ مسجد یا اسلامیہ مدرسہ کو ہبہ کر دیا ہے، اور اسکا متولی خود ہے اس میں اس کو اپنا مردہ دفن کرنا یا اس کی ڈالی کھانا یا اسکی لکڑی کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، یا نہیں؟ یا اس باغ کو دوسرے باغ میں شامل کر کے فروخت کر کے خود قیمت علیحدہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جب اس زمین اور باغ کو اپنی ملک سے خارج کر دیا، اور مسجد یا مدرسہ کے لئے شرعی قاعدے کے موافق وقف کر دیا تو اب اس زمین میں اپنے مردے کو دفن کرنا یا باغ کی لکڑی اپنے کام میں استعمال کرنا درست نہیں، اگر چہ وہ خود ہی متولی ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔