تمام جائیداد وقف کر دینا
سوال
ایک شخص نے آج سے پانچ سال قبل اپنی تقریباً ساری زرعی زمین اوقاف کمیٹی بانڈی پورہ کے نام وقف کی، مذکورہ شخص کا ہفتہ بھر پہلے انتقال ہو گیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا: (الف) یہ وقف نامہ جائز ہے؟ اور کیا اس کے ورثہ اس کی موت کے بعد وقف پر کوئی اعتراض کر سکتے ہیں؟ حالانکہ متوفی لا ولد اور لازن ہے اور اس کے ماں باپ اور کوئی بھائی زندہ نہیں، البتہ چچیرے بھائی اور کچھ ماموں زاد بھائی موجود ہیں؟ (ب) مذکورہ اوقاف کمیٹی اس جائیداد کی آمدنی کن مصارف میں صرف کر سکتی ہے؟ (ج)
جواب
(الف) مالک نے اوقاف کمیٹی کو متولی بنا کر اپنی زرعی زمین وقف کر کے متولی کے قبضہ میں دیدی جس کو پانچ سال گزر چکے ہیں اور اوقاف کمیٹی اس کی آمدنی کو واقف کے منشاء کے مطابق مصارف خیر میں صرف کر رہی ہے تو یہ وقف نامہ صحیح اور درست ہے، متوفی کے ورثہ میں سے کسی کو اعتراض کا حق نہیں اور اس میں وراثت جاری نہیں ہو گی۔ (ب)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔