الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صحت وقف کے لئے تا بید شرط ہے

سوال

(۱) کسی نے قطعہ زمین کو کسی مسجد معین کے واسطے بایں شرط وقف کیا کہ اس کے متعلق جو کام در پیش ہوں اس کے منافع کو اس میں خرچ کریں، تو جب اس کو دوبارہ بنوانے کی ضرورت ہو تو اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت اس میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ (۲) قطعه ارض کو کسی نے بلاتفصیل کسی مسجد معین کے واسطے وقف کر دیا تو اس صورت میں اس کو فروخت کر کے مسجد مذکورہ میں صرف کرنا کیسا ہے؟

جواب

(۱) صحت وقف کے لئے تا بید شرط ہے، حتی کہ بعض فقہاء نے تابید کی تصریح کو بھی لازم قرار دیا ہے، جس وقف میں خلاف تابید کوئی شرط ہو وہ وقف صحیح نہیں ہوتا ”الاوقف المسجد فانه يصح ويبطل الشرط “وقف کے تام اور لازم ہو جانے کے بعد اس کی بیع صحیح نہیں ہوتی (۲) اس کا جواب بھی نمبرار کے مثل ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو