الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوسرے کی جائیداد کو وقف کرنا

سوال

اسکے چند روز بعد ایک دوسرے وقف نامہ کے ذریعہ سے بکر جو زینب کا پسر ہے اور اس وقت کل جائداد کا متولی تھا، زینب نے دو جائدادیں بکر کے نام خریدی تھیں، زید کا یہ بیان کہ وہ اسکے روپے سے خریدی گئی ہیں نا قابل سماعت ہے، شروع ہی سے زید اور زینب کا جمع خرچ یکجائی چلا آرہا تھا، اس وقت درختان موقوفہ اور اسکی لکڑی فروخت کر دی گئی ہے، چند صاحبان مل کر اولاد زید کی ہمنوائی کر رہے ہیں، کیا اسکا یہ قول شرعاً جائز ہے؟ عند الشرع جو صورت ہو ارقام فرمائیں۔

جواب

وقف اپنی جائداد کو کیا جا سکتا ہے، اس کا حق ہے دوسرے کی جائداد کو وقف کرنے کا حق نہیں، پس زید نے اپنی زوجہ زینب کی جائداد کو وقف کیا ہے تو یہ غلط ہوا، صرف اپنا حصہ جو بحیثیت شوہر اس کو پہنچتا ہے، اتنا ہی وقف کر سکتا ہے، بقیہ زینب کے پسر کا ہے، اس کو وقف کرنے کا زید ہر گز حق دار نہیں، یہ وقف شرعاً معتبر نہیں، زید نے اگر روپیہ زینب کو دید یا تھا، پھر باجازت زینب اس روپے سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو