الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف نامه مفصلاً

سوال

زید نے اپنی جائداد کا کچھ حصہ ایک دینی مدرسہ کے نام وقف کیا اور وقف نامہ میں تحریر فرمایا، میری عمر زائد از ستر سال ہے، عمر طبعی کو یہ پہنچ چکی ہے، حیات مستعار نا پائیدار کا کچھ اعتبار نہیں مشیت ایزدی سے میری اولاد میری ہی زندگی میں فوت ہوگئی، میرا کوئی وارث باقی نہیں ہے بحالت صحت نفس ودرستی حواس خمسه برضاء ورغبت اپنی دلی خواہش کے ماتحت بلا بہکائے سکھائے غیر بخوشی خاطر اپنی مملوکہ مقبوضہ کو وقف الی اللہ میں منحصر کرتا ہے، اور اپنے قبضہ مالکانہ سے نکال کر قبضہ حق خداوند تعالی مالک دو جہاں میں دیکر بعد ازاں اپنے…

جواب

ا۔ یہ وقف شرعاً معتبر ہے کسی کو اس کے کالعدم کرنے کا حق نہیں ۲۔ کچھ اثر نہیں پڑتا۔ ۳- متولی کو جب کہ واقف نے اپنے بعد کے لئے نامزد کر دیا ہے تو اس کی تولیت معتبر ہے اب اس کو دست بردار ہونے کا حق نہیں الا یہ کہ مدرسہ کے اہتمام سے ہی دست بردار ہو جائے تو پھر جو بھی مدرسہ کا مہتمم ہو گا وہ اس وقف کا بھی متولی ہو گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو