الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر مملوک زمین کو وقف کرنا

سوال

ایک عورت نے کچھ زمین عرصہ سے زمیندار سے لگان پر بخیال آبادی کی اپنی حیات میں اس عورت نے اپنی دختر کے نام یہ زمین ہبہ ایک روپیہ کے کاغذ پر کر دی اور وہ لڑکی برابر لگان اپنے شوہر کے ذریعہ زمیندار کو کچھ عرصہ تک ادا کرتی رہی، اب جب کہ اس عورت کی لڑکی کا انتقال ہو گیا تو کچھ لوگوں کے بہکانے سے اس عورت نے مسجد کے نام وقف کر دیا کیا ایسی زمین جو کہ ایک دفعہ کسی کے نام ہبہ ہو چکی ہو مسجد کے نام وقف ہو سکتی ہے ایسی چیز مسجد کے واسطے کہاں تک جائز یا نا جائز ہے وہ زمین قریباً ۲۵ سال یا ۲۶ سال سے ہبہ ہوئی ہے، جس کا لگان اب…

جواب

وقف صحیح ہونے کیلئے شئی موقوفہ کا ملک واقف ہونا ضروری ہے، اگر وہ عورت اس زمین کی مالکہ نہیں تو اس کا وقف کرنا بھی صحیح نہیں ہے اسی طرح اپنی لڑکی کے نام جو اس نے ہبہ کی ہے تو وہ ہبہ بھی صحیح نہیں ہوا، اگر وہ عورت اس زمین کی مالکہ ہے تو شرعا ہبہ صحیح ہے، پس اگر ہبہ کر کے لڑکی کا قبضہ زمین پر کراچکی ہے تو لڑکی کے مرنے کے بعد باقاعدہ اس میں میراث جاری ہو گی اور اس میں سے جس قدر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو