الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کرایہ کا مکان مالک نے مسجد کو وقف کر دیا

سوال

ایک مکان زین الدین صاحب کا ہے، اس میں برکت علی ۱۹۲۲ء سے رہتے تھے وہ برابر مالک مکان کو کرایہ دیتے رہے، ان کے بعد ان کے لڑکے اور پوتے رہے لیکن ان لوگوں نے کرایہ نہیں دیا، انہوں نے مکان کی مرمت بھی کرائی توڑ کر چنائی بھی کرائی، اب زین الدین کے پوتوں نے اسکی رجسٹری مسجد کے نام کر دی یہ فیصلہ کس کے حق میں صحیح ہے؟

جواب

اگر وہ مکان زین الدین کی ملکیت میں تھا، برکت علی اس میں کرایہ پر رہتے تھے، پھر آئندہ چل کر برکت علی کی اولاد نے کرایہ نہیں دیا اور اولاد کی اولاد نے بھی کرایہ نہیں دیا اور زین الدین کی اولاد نے نہ وہ مکان برکت علی کی اولاد کو ہبہ کیا، نہ بیع کیا، اب زین الدین کے بعد جو وارث رہے انہوں نے یا ان کے بعد جو وارث شرعی رہے انہوں نے یہ مکان مسجد کو دیئے، چاہے وقف کیا ہو، چاہے بیع کیا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو