الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شریک وقف کے علیحدہ ہونے پر اس کی رقم کی واپسی

سوال

خالد ولید عمر وغیرہ نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے اپنے باہمی اتفاق سے ایک انجمن کی بنیاد ڈالی کہ جس کے بقاء اور قیام کی غرض سے باہمی مشورہ پر مناسب قوانین تجویز کئے ہیں اور منجملہ قوانین مجوزہ کے ایک قانون یہ بھی ہے کہ کوئی شریک بدون عذر معقول کے درمیان سال میں خارج نہیں ہو سکے گا اور اگر زبردستی خارج ہونا چاہتا ہے تو اس کی جمع کردہ رقم واپس نہیں دی جائے گی ہاں اگر عذر معقول ہے تو خارج ہو سکتا ہے تو اس کا حساب صاف کر کے مع رقم جمع کردہ کے اس کو رخصت کی جاتی ہے، نیز وعدہ لیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی مرضی کے مطابق انجمن…

جواب

اگر شروع میں مالک نے یہ رقم اپنی ملکیت سے خارج کر کے دیدی تھی تو اب واپس لینے کا حقدار نہیں، اگر بطور امانت تھی تو اس رقم کی واپسی ضروری ہے، اس کا وقف بہر حال نا جائز ہے، اولاً اس لئے کہ نفس رقم میں وقف کی صلاحیت نہیں کیونکہ وقف اصالۃً غیر منقول کا ہوتا ہے اور منقول کا وقف صحیح نہیں: الاما استثنى منها (اى من شرائط الوقف)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو