قربانی میں عقیقہ کا حصہ اور ساتویں دن کی رعایت
سوال
اگر کوئی شخص بڑے جانور میں بہ نیت عقیقہ شریک ہو جائے، تو درست ہوگا یا نہیں؟ جیسے سات حصے ہیں، زید نے اس میں دو حصے قربانی کے لئے اور ایک حصہ اسی جانور میں عقیقہ کا لیا تو ایسی حالت میں عقیقہ درست ہوگا یا نہیں؟ چاہے پیدائش سے ساتواں دن پڑے یا نہ پڑے، کسی قسم کی کراہت تو نہیں؟
جواب
اس صورت میں عقیقہ بھی درست ہے، قربانی بھی صحیح ہے، بہ نیت عقیقہ قربانی کے جانور میں حصہ خریدنے سے کچھ خرابی نہیں ہوتی، (وکذا فی الدرر والغرر والخانیۃ ص۲۰۴/ج۱) اور ساتویں دن کی رعایت محض مستحب ہے، جیسا کہ نفس عقیقہ بھی بہت سے بہت مستحب ہے، واجب نہیں، ملا علی قاری نے مرقاۃ شرح مشکاۃ میں دو حدیثوں کے تعارض کو رفع کرتے ہوئے لکھا ہے، ”لکن الجمع بین الروایات بانہ ذبح عنہ فی یوم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔