بالغہ کا عقیقہ اور اس کے بالوں کا حکم
سوال
ایک لڑکی کی عمر سات برس ہے اور ایک لڑکی بالغہ ہو چکی ہے، اس کا باپ اب ان کا عقیقہ کر رہا ہے، تو ان کے بال کاٹنے ہونگے یا نہیں؟ یا صرف تھوڑے سے کاٹ کر ان کو وزن کر کے چاندی صدقہ کر دے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب
ایسی دونوں لڑکیوں کے بال نہ کٹوائے، بکری ذبح کر کے کچا گوشت یا پکا کر غرباء اور احباب کو تقسیم کر دے، عقیقہ کا اصل وقت پیدائش سے ساتویں روز ہے وہ بھی صرف مستحب ہے، لازم اور واجب نہیں ہے، بغیر بالوں کے وزن کئے ہی اندازے سے چاندی صدقہ کر دے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔