کیا عقیقہ ۲۱ روز بعد بھی ہے
سوال
ترمذی جلد اول میں تو یہ ہے کہ مستحب ہے کہ عقیقہ ۲۱ یوم تک کرے، اس کے بعد کی کچھ تفصیل نہیں، ۲۱ یوم کے بعد عقیقہ کے جو فضائل ہیں، اس سے بچہ محروم رہتا ہے، یا وہی ثواب بعد ۲۱ یوم کے بھی ملتا ہے، خواہ جب کریں؟
جواب
دوسری بعض کتب میں بھی ایسا ہی ہے، لیکن شرح سفر السعادۃ سے بلا قید اور نقل کیا جا چکا ہے، نیز فتح الباری میں امام رافعی سے نقل کیا ہے کہ بلوغ سے پہلے پہلے کر دیا جائے، اس سے تاخیر نہ کی جائے، ورنہ ساقط ہو جائے گا، تاہم اگر اپنا عقیقہ بعد البلوغ کر دے تو درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔