الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ولیمہ کے ساتھ عقیقہ

سوال

ایک شخص نے ارادہ کیا کہ شادی میں ولیمہ کے لئے گائے ذبح کرے اور براتیوں کو کھلائے، کسی نے اس کو مشورہ دیا کہ اسی میں عقیقہ کی بھی نیت کر لو، لہذا اس نے گائے میں تین بچوں اور ایک بچی کا عقیقہ کر دیا، آپ مطلع فرمائیں کہ از روئے شریعت یہ عقیقہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

ایک گائے خرید کر اس میں چند حصے عقیقہ کے واسطے لے لے اور بعض حصہ میں ولیمہ کے واسطے نیت کرلے، پھر ذبح کر دے، تب بھی شرعاً درست ہے، حتی کہ قربانی کی گائے میں بھی یہ درست ہے، ”قد علم ان الشرط قصد القربۃ من الکل وشمل الی مالو کانت القربۃ واجبۃ علی الکل او البعض اتفقت جہاتہا اولا کالاضحیۃ والاحصار وکذا لو اراد بعضہم العقیقۃ عن ولد قد ولد من قبل ولم یذکر الولیمۃ وینبغی ان تجوز لہا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو