الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عقیقہ کی مدت

سوال

حضرت شیخ الہند (حضرت مولانا محمود حسن صاحب محدث کو کہتے ہیں یا کسی اور کو) نے تعلیقات ترمذی میں حدیث عقیقہ کے تحت ۲۱ یوم تک تحریر فرمایا ہے، تو کیا بعد ۲۱ یوم کے محض رسم عقیقہ رہ جاتی ہے، یا عمر میں جب چاہیں عقیقہ کر سکتے ہیں؟

جواب

عقیقہ فی نفسہ مباح ہے، اگر بہ نیت اتباع کیا جائے، تو ثواب ملتا ہے، اور اس کا اصلی وقت پیدائش سے ساتواں دن ہے، (پیدائش کے دن سے ایک دن پیشتر) شرح سفر السعادۃ ص۳۸۳ میں حضرت شیخ عبد الحق دہلوی نے اکیسویں روز کی تحدید نہیں کی بلکہ ۲۱ روز تک بیان کر کے کہہ دیا علی ہذا القیاس، شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن صاحب محدث دیوبندی کو کہتے ہیں، ان کا مقصود بھی تحدید نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو