میت کی طرف سے قربانی کے ذریعہ اداء واجب
سوال
(۱) زید پر شرائط صحیحه شرعیه قربانی واجب ہے مگر وہ کسی مردہ خویش یا ولی یا نبی کی طرف سے قربانی ایک بکری یا دنبہ دیدیوے تو حدیث ” عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أضْحِيَّةٌ“ سے بری الذمہ ہو جاتا ہے، یا اس کو اپنے وجوب کیلئے علیحدہ قربانی دینی چاہئے؟ (۲) جو قربانی میت کی طرف سے دیجاوے اس کا سارا گوشت تصدق کرنا چاہئے یا نہیں؟ اگر قربانی کرے میت کی طرف سے تو نہ کھاوے اس میں سے کچھ اور للہ دے بالکل مظاہر حق ص ۴۷۸/ (۳)
جواب
اگر میت نے قربانی کی وصیت کی تھی تو صدقہ کر دیا جاوے اور مظاہر حق کی عبارت کا محمل بھی یہی ہے ورنہ خود بھی تصرف میں لانا جائز ہے ” من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في اضحية نفسه من التصدق والاكل والاجر للميت والملك للذابح قال الصدر والمختارانه ان بامر الميت لا ياكل منها والا ياكل بزازیه شامی ج ۵ ص ۳۲۸/۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔