خنزیر کے بال سے برش بنانے والے کارخانہ میں ملازم کی تنخواہ سے قربانی خریدی گئی
سوال
ایک شخص کا ایک لڑکا ہے جو ایک کارخانہ میں کام کرتا ہے، اور اس کارخانہ میں خنزیر کے بالوں کے برش تیار ہوتے ہیں، اور اسکو معلوم بھی ہے کہ یہ بال خنزیر کے ہیں اور وہ خود اسکے بالوں کا برش تیار کرتا ہے، اسکے بعد اس نے اپنے گھر کو روپیہ بھیجے کہ ان روپیوں کا قربانی میں حصہ کریں اور جس جانور میں یہ روپیہ ڈالیں اس میں چھ شریک قربانی اور بھی ہیں ان کو معلوم نہیں کہ اس شخص کی کمائی کیسی ہے؟ اور جس نے جانور خریدا ان پیسوں کو اور پیسوں میں ملالیا اس صورت میں اس شخص کی قربانی ہوئی؟
جواب
خنزیر کے تمام اعضاء نجس العین ہیں، ان کی بیع جائز نہیں ہے لیکن کارخانہ میں ملازمت کرنے سے جو روپیہ حاصل ہوا اور بذریعہ ڈاک روپیہ بھیجا اور اس موصول شدہ روپیہ سے جو قربانی کے جانور میں حصہ لیا اس کی وجہ سے اس کی قربانی ناجائز نہیں ہوئی، اور نہ دوسرے شریکوں کی قربانی ناجائز ہوئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔