الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کسی کی طرف سے بلا اذن قربانی کرنا

سوال

زید سفر میں تھا، اس کے والد نے اس کی طرف سے بغیر اس کی اجازت کے قربانی کی، اس خیال سے کہ جب وہ سفر سے واپس آئے گا تو اس سے قربانی کے پیسے لے لونگا، جب وہ سفر سے واپس آیا تو والد نے لڑکے سے کہا کہ میں نے تیری طرف سے قربانی کر دی تھی، اس نے کہا کہ اچھا کیا، اور اس نے باپ کو قربانی کی قیمت دیدی، باپ اور بیٹا دونوں علیحدہ علیحدہ رہتے تھے، تو اس لڑکے کی قربانی درست ہوئی یا نہیں؟ نیز دوسروں کی قربانی میں کوئی نقص تو نہیں آیا؟

جواب

جبکہ بیٹے کی طرف سے پہلے سے اجازت نہیں تھی، خود ہی قربانی کر دی، اس اعتماد پر کہ بعد میں پیسہ لے لونگا، تو اس کی طرف سے قربانی صحیح نہیں ہوئی، اگر چہ پھر اس نے پیسے دیدیئے ہوں، اگر بڑے جانور میں اس کی طرف سے حصہ لیا تھا، تو کسی شریک کی بھی قربانی ادا نہیں ہوئی، سب کے ذمہ لازم ہے کہ اپنی قربانی کی قیمت کا صدقہ کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو