دوسرے کی طرف سے بلا اجازت قربانی
سوال
مشترک کاروبار اور مشترک آمدنی اور مشترک اخراجات کی بناء پر قربانی اور زکوۃ واجبہ کی ادائیگی کی یہ شکل ہوتی ہے کہ حساب جانچ کر مشترک زکوۃ ادا کر دیتا ہے، قربانی کی شکل یہ ہوتی ہے کہ خاندان میں کوئی ایک فرد قربانی کے حصوں کا حساب لگا کر مشترک طور پر قربانی کیلئے بیل، بکرے وغیرہ خرید لیتا ہے، جن کے خریدنے میں اہل حصص کی رضا مندی ہوتی ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صاحب حصہ سفر میں ہوتے ہیں اور ان کی طرف سے مکان پر اعزاء قربانی کر دیتے ہیں، تو یہ قربانی درست ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب
جب کہ سب شرکاء کی طرف سے اجازت اور رضامندی سے ایسا ہوتا ہے تو زکوۃ اور قربانی سب درست ہے بہشتی زیور کی عبارت منقولہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کسی کی طرف سے بغیر اس کے امر کے قربانی کر دیتا ہے، تو اس کے ذمہ سے واجب ادا نہیں ہوگا، اور اگر کسی قربانی میں حصہ اس کی طرف سے دیتا ہے کہ گوشت دیکر پیسے وصول کر دے گا، تو یہ در حقیقت اس کی طرف سے قربانی نہیں ہوئی، بلکہ اس کے ہاتھ گوشت کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔