الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

باپ کی طرف سے قربانی

سوال

ایک شخص صاحب نصاب ہوتے ہوئے قربانی نہیں کرتا اس کے لڑکے نے اس سے یوں کہہ دیا والد صاحب میں اپنی طرف سے آپ کی قربانی کردوں؟ والد نے جواب دیا ہاں کر دو، بشرطیکہ میں تم کو ایک پیسہ بھی نہ دوں گا، اس صورت میں قربانی اس کے والد کی طرف سے ہوگی یا نہیں؟ اور اس کو ثواب ملے گا یا نہیں؟

جواب

جزئیه مسئولہ صراحت نہیں ملا، دوسری جزئیات متعارض سی ہیں، بعض سے جواز معلوم ہوتا ہے، بعض سے عدم جواز، فقہاء عبادات مالیہ میں جواز نیابت کے لئے صرف امر کی شرط تحریر فرماتے ہیں، لہذا صورت مسئولہ میں امر متحقق ہونے کی بناء پر قواعد کا تقاضہ یہ ہے کہ قربانی باپ کی طرف سے درست ہو جائے، البتہ باپ کے ذمہ قربانی کا ثمن لازم ہوگا، بشرطیکہ بیٹے نے سکوت نہ کیا ہو یعنی اگر باپ کے شرط لگانے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو