دوسرے کی طرف سے قربانی کرنا
سوال
کیا غائب کی طرف سے کوئی شخص قربانی کر سکتا ہے، بغیر اس کی اجازت، عالمگیری ج ۵ ص ۴۵۸ باب الاضحية عن الغیر میں ہے ”اذاضح شاۃ من غیر بامر ذلك الغير او بغیر امرہ لا تجوز اس کا کیا مطلب ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غائب کی طرف سے قربانی اس کے حکم سے بھی جائز نہیں، حالانکہ آپ حضرات کا عمل بھی اس کے خلاف ہے، اس کا صحیح مطلب تحریر فرمادیں؟
جواب
قربانی کا جانور غائب کی ملک ہو اس کی طرف سے اس کی قربانی اس کے امر سے بلاتردد درست ہے، بغیر امر کے بھی استحساناً درست ہے، چنانچہ عالمگیریہ کے اسی باب میں مذکور ہے ” ولو ذبح اضحية غيره عن المالك بغير امره صريحاً يقع عن المالك ولاضمان على الذابح استحساناً وبواسطة رجل ذبح اضحية غيره عن نفسه بغير امره فان ضمنه المالك قيمتها يجوز عن الذابح دون المالك لانه ظهران الاراقة حصلت على…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔