مسافر بیٹے کی طرف سے بغیر اسکی اجازت کے قربانی کرنا
سوال
ایک شخص تبلیغ میں جارہا تھا، وہ مسافر تھا اس کے ذمہ قربانی واجب نہیں تھی، مگر بقر عید کے موقع پر اس کے باپ نے اس کی طرف سے قربانی کر دی، گھر آنے کے بعد اس شخص نے اس کو منظور کر لیا، اور روپیہ بھی دیدیا، تو اب اس کی قربانی صحیح ہوگئی یا نہیں؟ اور جو چھ آدمی شریک تھے ان کی قربانی کا کیا حکم ہے؟
جواب
والد نے جو اس کی طرف سے قربانی کر دی ہے، تو یہ والد کی طرف سے تبرع اور احسان ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ قربانی کا ثواب اس کو بخشدیا، ثواب زندوں کو بھی بخشا جا سکتا ہے، اب اس سے روپیہ لینا درست نہیں، روپئے واپس کر دیئے جائیں، قربانی سب کی ادا ہوگئی، جو مسافر تھا اس کے ذمہ قربانی واجب نہیں تھی، اب اس کو قربانی کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔