الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میت کی طرف سے قربانی بلا وصیت

سوال

میرے والد مرحوم کا گذشتہ سال جولائی میں انتقال ہو چکا، مرحوم نے کچھ بکریاں پال رکھی تھیں، اسمیں ان کا ایک بکرا ہے، مرحوم کا ارادہ اس سال اس بکرے کی قربانی کا تھا، مگر وہ اس سے قبل ہی انتقال کر گئے، اب وہ بکرا موجود ہے، اور میرے ذمہ ہے اب مجھ کو اسکے بارے میں کیا کرنا چاہئے، کیا اس بکرے کو انکے نام سے قربانی کر دینا ضروری ہے یا نہیں؟ یا میرے نام سے قربانی کی جائے؟

جواب

وہ بکرا آپ کے والد صاحب کا ترکہ ہے، اس میں سب ورثہ شریک ہیں، ان کی طرف سے قربانی واجب نہیں، آپ اگر ان کے تنہا وارث ہیں تو آپ کو اختیار ہے کہ اس کی قربانی ان کی طرف سے کر دیں، اور اگر کچھ اور وارث ہوں تو ان سب کی رضامندی سے ان کی طرف سے قربانی درست ہے، بشرطیکہ ورثہ میں کوئی نا بالغ نہ ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو