الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نفقہ کا بیان

سوال

میں ایک پردہ نشین نہایت بد قسمت عورت ہوں، میری شادی حسب رواج غنڈہ برادری مسمی اقبال سے عرصہ ہوا عمل میں آئی، شادی کے بعد پتہ چلا کہ شوہر نہایت بد چلن اور غنڈہ ہے، اس نے تمام زیورات اور سامانِ جہیز کو رفتہ رفتہ اپنی بد چلنی میں خرد برد کر دیا، نہ پیٹ بھر روٹی دیا نہ تن کو کپڑا، سائلہ کی لڑکی بھی ماں باپ کے گھر پیدا ہوئی، سارا خرچہ والدین نے اٹھایا، جب میں اپنی زندگی سے تنگ آگئی تو بالآخر اس نے عرصہ نو ماہ کا ہوا چند اشخاص کے سامنے حسب شرع تین مرتبہ طلاق دے کر اپنی زوجیت سے علیحدہ کر کے تین کپڑوں کے ساتھ جو بدن پر…

جواب

جب گواہوں کے سامنے اس نے تین مرتبہ طلاق دے دی تو نکاح بالکل ختم ہو گیا ہے آپ کا مہر اور خرچہ عدت بھی اس کے ذمہ واجب ہے، عدت تین ماہواری گذرنے پر نکاح ثانی کا آپ کو اختیار ہے لڑکی کا نفقہ بھی اس کے ذمہ لازم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو