مطلقہ کا نفقہ وسکنی بعد عدت
سوال
ناصر نے نور جہاں سے نکاح کیا، بعد ایک عرصہ کے ناصر نے اپنی بیوی نور جہاں کی موجودگی میں اس کی علاتی بہن شاہجہاں سے نکاح کر لیا، اس کے بعد نور جہاں کو طلاق مغلظہ دیدی، طلاق مغلظہ دینے کے بعد گاؤں والوں کے سمجھانے بجھانے پر اب ناصر نور جہاں کو اور اس کے بچوں کے اخراجات کے لئے پچاس روپیہ ماہوار دیتا ہے اور نور جہاں عرصہ سے اسی حالت میں ناصر سے ملے ہوئے مکان کے ایک کمرہ میں ناصر کی اجازت سے رہتی ہے، اس صورت میں نور جہاں اور بال بچوں کو اس روپیہ کا لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
بچوں کا خرچ تو ناصر کے ذمہ لازم ہے نور جہاں کا خرچ عدت ختم ہونے کے بعد سے لازم نہیں رہا، لیکن اگر ناصر اس خیال سے اس کو بھی خرچ دیتا ہے، کہ وہ اس کے بچوں کی پرورش کرتی ہے تو اس میں بھی مضائقہ نہیں، نیز مکان سے متصل کمرہ میں رہنے سے بچوں کی نگرانی میں سہولت رہتی ہے، یہ بھی درست ہے، لیکن اس کا لحاظ ضروری ہے، کہ گذشتہ تعلقات کی یاد تازہ ہو کر فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائے جو روپیہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔