الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق اور بچوں کا نفقہ

سوال

ایک شخص اپنی منکوحہ کو تقریباً چار سال کے عرصہ سے علیحدہ کر چکا ہے، اور یہ الفاظ ادا کر چکا ہے اگر تم کو آباد کروں تو اپنی ماں، بہن کو کروں، اور ان کو نکال دیا ہے اور وہ اپنے ماں باپ کے یہاں چلی آئی ہے، اور اسی عرصہ میں جب کہ دو بچے بھی انتقال کر چکے ہیں، اور وہ شہر میں رہتے ہوئے اور حادثہ سے باخبر ہوتے ہوئے بھی شمولیت نہیں کی، نہ کسی طرح کا نان ونفقہ دیا اور نہ کبھی کسی کے ذریعہ یا خود بلایا ہے، ایسی صورت میں کیا وہ عورت دوسرا نکاح کر سکتی ہے، یا نہیں؟

جواب

وہ شخص اپنی منکوحہ کو طلاق دے کر قطع تعلق کر چکا ہے، تو بعد عدت اس عورت کو دوسری جگہ نکاح جائز ہے اس کی عدت تین حیض ہے، یعنی طلاق کے بعد تین حیض گذرنے پر نکاح ثانی شرعاً درست ہے اور بچوں کا نان ونفقہ اس شخص کے ذمہ واجب ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو