الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مقدار نفقه اگر عورت مدعی ہے کہ مجھے نو سال میں تین حیض آتے ہیں

سوال

بکر نے ہندہ سے نکاح کیا، کچھ عرصہ کے بعد بکر نے ہندہ کو مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور طلاق رجعی دیدی، ہندہ بکر سے نفقہ عدت مانگتی ہے، اور کہتی ہے کہ مجھے ایام ماہواری تین سال میں ایک بار سات یوم کے لئے ہوتے ہیں، اس لئے نو سال کا نفقہ عدت مجھے دلایا جائے، بکر کا کہنا یہ ہے کہ طلاق کی عدت تین ماہ دس یوم ہوتی ہے، اس لئے تین ماہ دس یوم کا نفقہ دے سکتا ہوں، کیا ہندہ کا کہنا درست ہے؟

جواب

ان عبارات سے معلوم ہوا کہ طلاق کے بعد تین حیض گذرنے میں مطلقہ کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا، اور جب تک تین حیض نہ گذر جائیں وہ نفقہ وسکنی کی مستحق ہوگی اور دوسری جگہ نکاح کرنے کی مجاز نہیں ہوگی اور شوہر کو صحبت اور ہمبستری کا اختیار بھی باقی رہے گا، اور یہ حق بھی رہے گا، مجبور کر کے اپنے ہی مکان پر رکھے، میڈیکل وغیرہ کے ذریعہ کسی جانچ پر عورت کے قول کو تسلیم کرنا موقوف نہیں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو