بیوی سفر میں ساتھ رہنے سے انکار کر دے اس کا نفقہ
سوال
زید کی بڑی بیوی ۵۵ سال امیرہ کبیرہ واجب زکوۃ اور تمام اقسام منم اقسام ٹیکس کی ادا کرنے والی اور ۲۲ سالہ شادی شدہ لڑکا متمول، مالک جائیداد، تاجر اور ٹیکس گذار، زید کی دوسری چھوٹی بیوی ۲۴ رسالہ غریب، قابل رحم وبے سہارا ایک چھوٹی بچی گود میں لڑکی کی ماں سات سو میل فاصلہ پر چپکے سے شادی کے وقت سے مقیم بسبب غربت زید اس کے جملہ افراد کا صلہ جمی پر کفیل، کے جملہ افراد کا رمی تقاضائے وقت کہ زید کی تجارت متزلزل ہوئی اور زید صرف مجبور ومحتاج ہو گیا، زید کا خیال ہوا کہ کسی چھوٹی بستی میں معمولی کرایہ پر دوکان لے کر کاروبار…
جواب
(الف) ان حالات میں زید کو یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ بڑی بیوی کو دوسرے شہر میں لے جانے پر مجبور کرے، خاص کر جب کہ دوسرا شہر بیوی کے مکان سے اڑتالیس میل فاصلہ پر ہو۔ کذا في رد المحتار: ۳۶۰، ج:۲ (ب) اس عدول حکمی سے نفقہ ساقط نہیں ہوگا شامی ص: ۶۴۷، ج:۲، شب باشی میں مساوات اس وقت ضروری ہے جب دونوں ساتھ ہوں، اگر ایک اپنے مکان پر ہو دوسری سفر میں ساتھ ہو تو یہ مساوات ضروری نہیں (ج)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔