بیوی سے بدگمانی کی بناء پر نفقہ بند کر دینا
سوال
بیگم جانی یوسف خان کے نکاح میں چودہ سال سے ہے، پانچ اولاد ہیں، میرے شوہر نے مجھ پر بدکاری کا الزام لگا کر ثبوت میں دیسی تیل گرم میں سے انگوٹھی نکالنے کے لئے حکم دیا، خدا کا شکر ہے کہ میں اس امتحان میں کامیاب رہی، اس کے بعد بھی بلا قصور مار پیٹ اور بد کلامی سے پیش آتا ہے دوسری شادی کر لی ہے، اب پانچ سال سے مجھے اور بچوں کو گھر سے نکال دیا ہے، میں بیوہ والدہ کے پاس مقیم ہوں، نہ میرا خیال ہے، نہ بچوں کا، فاقے گذرتے رہتے ہیں، ادارہ دینیات میں کئی درخواست دے چکی ہوں، اراکین کمیٹی بھی شوہر کی بدکلامی سے ڈرتے ہیں، جس کی…
جواب
قصور سے بری ہونے کا جو فیصلہ اختیار کیا گیا ہے، (گرم کڑاہی سے انگوٹھی نکالنا) شرعاً یہ طریقہ غلط ہے، اگر قصور پر گواہی موجود نہ ہو تو جس کو قصور وار قرار دیا جاتا ہے، اس کا قسم کھا لینا قصور سے براءة کے لئے شرعاً کافی ہے محض بدگمانی کی وجہ سے ایسا رویہ اختیار کرنا کہ بچوں اور بیوی کو الگ کر کے خرچ بند کر دیا جائے، یہ شرعاً درست نہیں، بلکہ گناہ اور ظلم ہے اور بدگمانی کی وجہ سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔