گذشتہ دنوں کا نفقہ
سوال
اگر کسی نے شادی کی اور اپنی بیوی کو کچھ دنوں تک گھر میں رکھا، بعدۂ بیوی اپنے میکہ چلی گئی اور شوہر مثلاً چار پانچ سال تک نہیں لایا، اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دیدیا، اب بیوی شوہر سے ان ایام کا نفقہ طلب کرتی ہے جن ایام میں وہ میکہ رہی ہے، تو کیا شوہر پر ان ایام گذشتہ کا نفقہ واجب ہوگا؟ مفصلاً تحریر فرمائیں۔
جواب
اگر شوہر نے وعدہ کیا تھا کہ جب تک میکہ رہو گی تم کو اتنا نفقہ ہر ماہ دیتا رہوں گا، تو بیوی کو مطالبہ کا حق ہے، اور اگر کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا، تو ان ایام گذشتہ کا نفقہ طلب کرنے کا حق نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔