الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کا مطالبہ علیحدہ مکان کے لئے

سوال

زید کی اہلیہ اپنے میکہ چلی گئی، زید اس کو دو تین مرتبہ لینے کے لئے گیا مگر نہ اس کے والدین نے بھیجا اور نہ وہ خود بھی زید کے گھر آنے کے لئے تیار ہے، اور کہتی ہے کہ زید کے ساتھ دوسری اہلیہ کی موجودگی میں نہ رہوں گی، اس کو طلاق دید ویا مجھے علیحدہ مکان میں رکھو تب رہوں گی، اس کا نان ونفقہ زید کے ذمہ واجب ہے یا نہیں؟

جواب

جب تک شوہر کے گھر واپس نہیں آئے گی، نفقہ کی مستحق نہیں ہوگی۔ تنبیہ: اپنی زوجہ کے لئے ایک کمرہ ایسا جدا گانہ ہونا ضروری ہے جس میں کسی دوسرے کا تصرف نہ ہو، باقی صحن غسل خانہ، بیت الخلاء، باورچی خانہ سب مشترک ہوں جو کہ دوسری بیوی یا شوہر کی والدہ، بہن وغیرہ کے استعمال میں ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے اس سے زائد مستقلاً علیحدہ مکان کا مطالبہ غلط ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو