بیوی کے لئے الگ مکان
سوال
میری لڑکی کی شادی ۱۹۵۱ء میں ہوئی۔ جس لڑکے سے شادی ہوئی وہ مالدار گھر اور شریف خاندان کا ہے۔ میری لڑکی کے تین بچے بھی ہیں اس دوران میں اس لڑکے کا طوائف سے تعلق ہو گیا اور اس طوائف کے پاس دوسرے لوگ بھی آتے جاتے رہے غرض یہ کہ اس طوائف سے لڑ کے کے ناجائز تعلقات چار پانچ سال رہے اس دوران طوائف کے دو بچے بھی پیدا ہوئے جب طوائف کو یہ معلوم ہو گیا کہ مالدار گھر کا لڑکا ہے تو چار پانچ برس کے ناجائز تعلقات کے بعد نکاح کر لیا اور نکاح کے بعد بھی وہ عورت بے پردہ رہتی ہے لڑکے نے اپنی تفریح کی وجہ سے یہ نکاح کیا ایسی حالت میں…
جواب
جب ایجاب وقبول گواہوں کے سامنے کر لیا تو نکاح منعقد ہو گیا۔ نکاح کر کے جو کچھ خواہش پوری کی جاوے وہ ہزار ہا درجہ بہتر ہے اس سے کہ بغیر نکاح کے خواہش پوری کی جاوے البتہ جب کسی کی دو بیویاں ہوں تو دونوں میں برابری لازم ہے، اگر ایک بیوی کے پاس ایک مختصر سا کمرہ ہو جس میں کسی اور کا دخل نہ ہو اور مکان کی دیگر ضروریات صحن وغیرہ دوسری بیوی کے ساتھ مشترک ہوں تو پھر یہ مطالبہ کرنے کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔