الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نا جائز حمل کس کی طرف منسوب ہو؟

سوال

ایک شادی شدہ عورت ہے جس کا شوہر پردیس میں رہتا ہے، اس کے پیٹ میں نا جائز حمل ہے، دریافت کرنے پر اس نے دیور کا حمل بتلایا ہے، اور اس کا دیور بھی شادی شدہ ہے، وہ انکار کرتا ہے، اب اس عورت کے شوہر نے اس کو طلاق دیدی ہے، اب اس عورت کو کس کے ٹھکانے لگایا جائے؟

جواب

عورت ومرد اگر دونوں ہی اقرار واتفاق کر لیں کہ یہ بچہ زنا کا ہے، تب بھی بچہ کا نسب زانی سے ثابت نہ ہوگا۔ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ كما في الحديث، فراش قائم رہنے تک شوہر سے نسب منتفی نہیں ہوتا، جب تک لعان نہ ہو موجودہ صورت میں بہتر یہ ہے کہ اس عورت کی شادی اس دیور سے ہی کر دی جائے (ان لم يمنع مانع)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو