الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تین حیض ساٹھ دن میں

سوال

ایک مسلمہ بالغہ نے زوج اول سے بعد مطلقہ ہونے دومہینہ پانچ دن کے دوسرے مرد سے مناکحت کر لی لیکن دو دن کے بعد یعنی یوم طلاق سے دو مہینہ سات دن میں حائضہ ہوئی اب سوال یہ ہے کہ اس کی مناکحت صحیح ہوگی، یا نہیں اور اس کا یہ حیض انقضاء عدت کی تکذیب ہوگا یا نہیں؟ اور دو مہینہ سات دن میں چار دفعہ حیض کا آنا از روئے قاعدہ شرعی ممکن ہے یا نہیں؟

جواب

طلاق کی عدت تین حیض ہے، اگر حاملہ ہو تو وضع حمل عدت ہے، عدت گزرنے سے پہلے نکاح ثانی جائز نہیں، تین حیض کم سے کم ساٹھ دن میں آسکتے ہیں، اگر عورت یہ کہے کہ میری عدت گذر چکی، یعنی تین حیض آگئے اور ساٹھ روز بھی پورے ہو چکے ہیں، جن میں تین حیض آنے کا احتمال بھی ہے تو شرعاً اس کا قول معتبر مان لیا جائے گا، اور نکاح ثانی درست ہوگا، اگر طلاق کے بعد ساٹھ دن گزر گئے، مگر اس کو تین حیض…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو