الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خلع کی عدت تین حیض ہے

سوال

زوجین میں طلاق کرائی گئی بہت مدت سے اس میں تنازع تھا، زوجہ اپنے خاوند کے گھر بہت مدت سے تھی، آخر خلع کرایا گیا، ایک عالم صاحب نے اکتیس دن گزار کر یعنی بعد ایک ماہ ایک دن گزار کر دوسرا نکاح کیا، اور مولوی صاحب کا کہنا ہے کہ ایک حیض کے بعد نکاح جائز ہے بلکہ ایک حدیث ہے، حضرت ثابت ابن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ کی تفریق کے متعلق ہے، جس میں ثابت ابن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجہ نے ان سے طلاق مانگی تھی، جس پر اس نے ایک باغ جو کہ مہر میں مقرر کر کے دیا گیا تھا، واپس دے کر خلع کیا، اس وقت ” وَجَعَلَ عدتها حيضة مقرر کیا…

جواب

اصل مسئلہ وہ ہے کہ جو قرآن پاک میں ہو کسی حدیث شریف سے اگر دو مطلب نکلتے ہوں ایک قرآن کریم کے موافق اور دوسرا قرآن کریم کے خلاف ہو، اصولی چیز ہے، کہ وہی مطلب مراد لینا چاہئے، جو موافق قرآن شریف ہو، تاکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں تعارض وتضاد نہ ہو، ایسا مطلب مراد لینا جس سے دونوں میں تعارض وتضاد ہو خلاف اصول اور دانشمندی سے بعید ہے، جب کہ خلع…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو