الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عدت طلاق شوہر کے مکان میں گزارنا

سوال

(۱) شریعت مقدسہ کا حکم یہ ہے کہ طلاق کے بعد عورت اس گھر میں عدت گزارے جسکے اندر اس کو طلاق دی گئی ہے، آج کل فتنہ وفساد کا زمانہ ہے، شوہر کے مکان میں اگر عورت کو رہنے دیا جائے تو اسکے اندر سخت خطرہ ہے، کہ میاں بیوی معصیت میں مبتلا ہو جائیں کیا اس قسم کے اندیشوں کی بناء پر عورت کو نکلوا کر اس کے میکے میں پہنچادینا جائز ہے۔ (۲)

جواب

اگر طلاق بائن یا مغلظہ ہے اور اس مکان میں عصمت کے ساتھ عدت گزارنا دشوار ہے، نیز کوئی عورت ایسی بھی نہیں جس کا وجود مانع فتنہ ہو تو اولیٰ یہ ہے کہ مرد کسی مکان میں منتقل ہو جائے اگر یہ متعذر ہو تو عورت کسی دوسرے مکان میں چلی جائے: واذا وجب الاعتداد في منزل الزوج فلا بأس بان يسكنا في بيت واحد اذا كان عدلا سواء كان الطلاق رجعيا او بائنا او ثلاثا والافضل ان يحال بينهما في البيتوتة…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو