شوہر فاسق وفاجر ہے تو بیوی کیا کرے
سوال
ایک لڑکی کی شادی دس سال کی عمر میں ہوتی ہے (یہ شادی والد نے کی) جس کو عرصہ سات سال کا ہو گیا، لڑکی ابھی تک رخصت نہیں ہوئی، شوہر چور، بدمعاش اور شرابی ہے، لڑکی کہتی ہے کہ میں اس چور کے یہاں ہرگز نہیں جاؤں گی، اگر مجھے زبر دستی بھیجا گیا تو میری جان اور عزت کا زبردست خطرہ ہے، میرا نکاح دوسری جگہ کر دیا جائے، اس صورت میں نکاح دوسری جگہ ہو سکتا ہے، یا نہیں؟ جب کہ خطرہ ہے کہ شوہر عصمت فروشی کرے یا بیچ دے یا مار ڈالے یا ناک کان کاٹ لے، ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
جواب
نکاح سے پہلے یہ سوچنا چاہئے تھا، جس سے شادی کی جارہی ہے وہ چور ہے، بدمعاش ہے، یا کیا ہے، تاہم نابالغہ کا نکاح جب اس کے والد نے کر دیا ہے، تو وہ صحیح اور لازم ہو گیا، لڑکی کو خیار بلوغ حاصل نہیں۔ اگر یہ صحیح بھی ہو کہ شوہر چور بدمعاش ہے، تو ہر چور بدمعاش سے یہ خطرہ کہ وہ عصمت فروخت کر دے گا یا بیچ ڈالے گا یا جان سے مار دے گا، یا ناک کان کاٹ ڈالے گا، صحیح نہیں لڑکی کو اس کے یہاں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔