رخصتی کے وقت داماد زیادہ جہیز وغیرہ کا مطالبہ کرے تو کیا تفریق کا مطالبہ درست ہے؟
سوال
مسماۃ بانو کے والدین اور محلہ پکر کے خلاف شرع فعلوں کی بناء پر نا خوش رہتے ہیں، بکر نے اپنے لڑکے کی شادی کے لئے کئی جگہ پیغام بھجوایا مگر کسی نے اقرار نہ کیا، آخر کار حاجی شریف صاحب کے اصرار پر مسماۃ بانو کا نکاح بکر کے لڑکے زید کے ساتھ ہو گیا، مگر بکر اور اس کے لڑکے زید وغیرہ جہیز میں اس قدر سامان مانگ رہے تھے، مثلاً گھڑی، ریڈیو، سائیکل،صوفا سیٹ وغیرہ اور مزید ایک ہزار روپیہ جو بانو کے والدین کے بس سے باہر تھا، اس لئے انھوں نے عذر بیان کیا، مگر وہ لوگ اس پر اڑے رے، بکر نے یہ بھی کہہ دیا کہ تم کو دینا پڑے گا نہیں…
جواب
زید کی یہ روش شرافت بلکہ انسانیت سے بھی گری ہوئی ہے، اس کا مطالبہ نہایت غلط ہے رشوت ہے، حرام ہے اگر وہ اپنے مطالبہ سے باز نہیں آتا تو حاکم مسلم کی عدالت میں درخواست دی جائے، عدالت اس کو حاضر کر کے اس غلط مطالبہ کو ساقد کرادے، یہ اس سے طلاق دلوادے، بعوض مہر خلع کرادے، یا تفریق کر دے اگر حاکم مسلم با اختیار نہ ہو یا وہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرے، تو کم از کم تین معزز دیندار…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔