الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تین طلاق کے بعد بھی شوہر نہ چھوڑے تو کلمہ کفر ادا کرنے کا حکم ارتداد کے بعد اس شرط پر اسلام قبول کرنا کہ میرا نکاح دیندار شخص سے کیا جائے

سوال

ایک عورت کا نکاح ایک ناخواندہ بے نمازی شخص سے ہوا مگر عورت کے والد نے اپنے داماد سے قبل از نکاح اداء نماز کا پختہ طور پر حلفی وعدہ کر لیا تھا لیکن بعد نکاح ثابت ہوا کہ وہ شخص کبھی کبھی نماز پڑھ لیتا ہے اور مدت دراز سے وہ اغلام بازی کا عادی اور سودخوری کا عادی ہے اور اس کی زوجہ نماز کی نہایت پابند اور روزانہ تلاوت قرآن مجید کی بڑی صحت الفاظی سے کرنے والی فیشن انگریزی سے بہت متنفر امور خانگی میں خوب ہوشیار بائیس سالہ عمر کی ہے اور اس عورت نے اردو کی لکھائی پڑھائی اپنی والدہ سے اپنے گھر پر حاصل کی ہے، اس کے شوہر نے…

جواب

(۱) صورت مسئولہ میں عورت کے سامنے طلاق دی گئی ہے، لہذا عورت کو ہرگز ہرگز جائز نہیں کہ کسی طرح اس طلاق دینے والے کو اپنے اوپر قابو دے اگر اس طلاق دینے کے یا اقرار کرنے کے کم از کم دو معتبر دیندار گواہ موجود ہیں تو با قاعدہ عدالت کے ذریعہ سے یا پنچایت کے ذریعہ سے عورت اپنا فیصلہ کر کے علیحدہ ہوسکتی ہے کلمات کفریہ زبان سے ادا کرنا بالکل حرام ہے فسخ کرانے کے لئے مفتی بہ قول کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو