زوجه عنين
سوال
عرصہ تخمیناً چار سال کا ہوا ایک عورت کی شادی کو ہوئے ایام شادی میں وہ عورت اپنے شوہر کے پاس پندرہ یوم رہی ہے اور پھر شادی سے ایک سال بعد پھر جاتی ہے، جب بھی تقریباً ڈیڑھ ماہ رہ کر آتی ہے، مگر اسکا شوہر عورت سے کسی قسم کی کوئی بھی راہ ورسم نہیں رکھتا، اور اب عورت اپنے ہی ماں باپ کے مکان پر تقریباً تین سال سے رہ رہی ہے، شوہر چوں کہ نامرد ہے اسلئے وہ اسکو لے جانا نہیں چاہتا اور نہ ہی اسکو طلاق دیتا ہے سوایسی حالت میں جب کہ مرد نامرد ہے اور نہ اس کو آزاد کرتا ہے تو عورت کا دوسری جگہ نکاح کر دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اس عورت کو چاہئے کہ حاکم مسلم کی عدالت میں مقدمہ پیش کرے حاکم شوہر سے دریافت کرے اگر وہ اقرار کر لے کہ میں ہم بستری پر قادر نہیں ہوا تو ایک سال کی مہلت علاج کیلئے دیدے اس مدت میں علاج کر کے اگر جماع پر قادر ہو گیا تو خیر ور نہ عورت کی دوبارہ درخواست پر جب کہ شوہر بھی اسکی تصدیق کرتا ہو، تفریق کر دے اگر ایک مرتبہ بھی جماع کر لیا تو عورت کو حق فسخ حاصل نہیں رہیگا، اگر شوہر عورت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔