الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اپنی بیوی کو دوسرے کے حوالہ کرنے سے نکاح کا حکم

سوال

ایک شخص نے تائے زاد بھائی کے ہاتھ میں اپنی بیوی کا ہاتھ دیدیا کہ میں تم کو دیتا ہوں، نہ اس کا خرچ میرے بس کا ہے نہ خواہش پوری کر سکتا ہوں، عورت بھی تیار ہو گئی اور غیر شخص نے بھی قبول کر لیا، کچھ دنوں بعد دونوں مردوں میں کوئی بات بڑھ گئی شوہر نے بیوی کو غیر مردوں سے حرام کاری کے لئے مجبور کیا، وہ عورت اس آدمی کے ساتھ جس کے حوالہ ہوئی تھی، فرار ہوگئی اور فرار کے سات سال ہو چکے ہیں تین بچے بھی ہو چکے ہیں، تو کیا اس کے ساتھ رہنا اور شوہر سے تعلق ختم کر دینا شرعاً کیسا ہے؟ وہ نکاح باقی ہے یا ختم ہو گیا؟

جواب

اپنی بیوی کا ہاتھ دوسرے مرد کے ہاتھ میں پکڑا دینا انتہائی بے غیرتی اور بے حیائی ہے، اس سے شرعا نہ نکاح فسخ ہوا نہ وہ دوسرے کی بیوی بنی بلکہ پہلا نکاح قائم ہے، اس عورت کو اس دوسرے آدمی سے فوراً علیحدہ ہو جانا ضروری ہے، شوہر اگر اسکے حقوق ادا نہیں کر سکتا تو اسکو طلاق دیدے اسکے بعد عدت گزار کر وہ عورت اگر چاہے تو اس دوسرے شخص سے نکاح کرلے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو