الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تفریق سے خرچہ شادی کا مطالبہ

سوال

زید اور ہندہ کی شادی کو دو سال کا عرصہ ہو گیا، نا اتفاقی کی حالت کو ایک سال کا عرصہ ہوا، ایک روز دونوں کے وارثین جمع ہوئے دونوں طرف سے متفقہ طور پر یہ بات منظور کی گئی، کہ کچھ فیصلہ ہو جائے، دونوں طرف سے ایک عالم دین اور تین معزز اشخاص کو حکم بنایا گیا، ان چاروں حضرات نے لڑکی سے اس کی تکالیف معلوم کی، اس کے بعد تفریق کا فیصلہ کر دیا، جس کی رضا مندی زید اور اس کے وارثین نے بھی دی اور کہا کہ ہم کو بلاکسی شرط کے فیصلہ منظور ہے، اب اس کے وارثین کہتے ہیں کہ شادی میں جو دو ہزار روپیہ خرچ ہوئے تھے، یہ لڑکی والوں سے…

جواب

اگر حکم نے تفریق کر دی تو شرعاً طلاق واقع ہوگئی کہ دو ہزار روپئے کا حکم نے فیصلہ نہیں کیا، تو ان کا مطالبہ غلط ہے، اور تفریق ان دو ہزار روپئے پر معلق نہیں بلا شرط واقع ہو گئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو