الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا بیوی کو طلاق بذریعہ عدالت لینے کا حق ہے؟

سوال

بکر کی شادی باکرہ کے ساتھ ہوئی، باکرہ کے والدین نے جہاں شاندار جہیز دیا وہاں پر بکر کے اوپر ستر ہزار روپیہ کا مہر مؤجل بھی لاد دیا، کچھ عرصہ بعد دونوں میں بوجہ غیر شرعی کشیدگی پیدا ہو گئی اور کشیدگی نے عداوت کا اور عداوت نے مقام عدالت حاصل کر لیا، بکر اپنی زوجہ باکرہ کو باعزت طریقہ پر اپنے گھر لانے کے لئے مصر ہے، مگر باکرہ تیار نہیں، بس اسی بنا پر یا دیگر غیر شرعی امور کی وجہ سے اب باکرہ اور اس کے والدین بکر سے جبریہ طلاق عدالت مجاز سے حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر بکر اپنی زوجہ باکرہ کو طلاق دینے کے لئے ہرگز تیار…

جواب

(۱) تحریر کردہ حالات میں باکرہ کے والدین کا یہ مطالبہ غلط ہے، ان کو اس کا حق نہیں، گھر داماد رکھنے کا مطالبہ قابلِ تسلیم نہیں، شوہر کی مرضی پر ہے، باکرہ کے والدین نے اگر طلاق کا عدالت میں دعویٰ کیا، اور عدالت نے ایک طرفہ درخواست پر باکرہ کو نکاح ثانی کی اجازت دے دی تو شرعاً وہ طلاق نہیں ہوگی، نکاح فسخ نہیں ہوگا باکرہ پر عدت واجب نہیں ہوگی، باکرہ کو دوسری جگہ نکاح کا حق نہیں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو