الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زوجه عنين

سوال

زید کا نکاح عرصہ دو ڈھائی سال سے زبیدہ سے ہوا تھا، شب زفاف میں ہی زید قادر بدخول نہ ہوا چند عرصہ تو زبیدہ کو پردہ عیب خود سے عذرات میں رکھا مگر آخرکار زبیدہ کی طلب جبر پر اسکا راز کھل گیا، کہ زید عنین ہے، نہ انتشار ہے نہ زور، زبیدہ ناراض ہو کر خانہ پدر میں آگئی، اور زید کو علاج کرانے کی ہدایت کی گئی آخر علاج سے کچھ فائدہ نہ ہوا عرصہ ڈیڑھ سال کا ہوا زبیدہ خانہ والدین میں رہتی ہے، زید بوجہ نا قابل ہونے کے زبیدہ کو اپنے یہاں لے جانے کا خواہش مند نہیں، اب عنین جو قادر بدخول نہ سکتا ہو اور نہ انتشار ہوتا ہے زبیدہ کے حق…

جواب

اگر بوقت نکاح زبیدہ کو زید کا عنین ہونا معلوم تھا، یا بعد معلوم ہونے کے ایک دفعہ بھی زبیدہ نے زبان سے زید کے ساتھ رہنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے، مثلاً اس طرح پر کہ اب تو میں اسی کے ساتھ بسر کروں گی خواہ کیسا ہی ہو، (خاموش رہنا کافی نہیں، بلکہ رضا کی تصریح ضروری ہے)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو