الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

روپے کے عوض طلاق

سوال

ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ اگر تو مجھے طلاق دیدے تو میں تجھے تین سو روپئے دوں خاوند نے اقرار کیا تو اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں، اگر ہو گئی تو اس کی تلافی کی کیا صورت ہے۔

جواب

شوہر نے کیا اقرار کیا صرف وعدہ کیا یا طلاق دے بھی دی، اگر صرف وعدہ طلاق کیا ہے تو اس سے طلاق نہیں ہوئی ہے ہاں اگر طلاق دیدی ہے اور تین سو روپے کے عوض میں دی ہے، تو طلاق بائن واقع ہو گئی، رجعت کا حق باقی نہیں رہا ہے اگر طرفین رضا مند ہوں تو دوبارہ نکاح درست ہے، اگر تین طلاق دی ہیں تو بلا حلالہ ہوئے نکاح بھی درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو