الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خلع سے طلاق

سوال

زید اور ہندہ شوہر بیوی ہیں، ان میں کسی وجہ سے نا اتفاقی پیدا ہوگئی، شوہر طلاق نہیں دینا چاہتا، مگر ہندہ جب اپنے میکے چلی گئی تو وہاں سے ایک تحریر خلع کیلئے بھیج دی کہ بعوض مہر خلع کرتی ہوں، وہ تحریر آکر تقریباً ایک ماہ شوہر کے پاس رکھی رہی شوہر نے کوئی جواب نہیں دیا پھر ہندہ جو کہ بالغہ عاقلہ ہے، اس کے والدین کے اصرار پر درمیان میں بعض لوگوں نے کوشش کی اور شوہر سے اسی تحریر خلع کو سامنے رکھتے ہوئے ایک تحریر خلع شوہر کو کسی طرح راضی کر کے لکھوالی، جب وہ تحریر ہندہ کے پاس پہنچی تو اس نے لے لی اور فوراً کوئی خیال…

جواب

ہندہ نے جو تحریر اولا لکھی اس سے خلع نہیں ہوا کیونکہ شوہر نے قبول نہیں کیا ہے پھر جب زید سے تحریر لکھوائی گئی اور وہ جبر واکراہ سے نہیں تھی بلکہ رضا مندی سے تھی اور اس میں زید نے صرف اتنا لکھا کہ میں نے تجھ سے خلع کر لیا تب تو اتنا لکھنے میں طلاق بائن واقع ہوگئی، کیونکہ یہ خود طلاق ہے اور اس تحریر کا بیوی کے پاس پہنچنا اور اس کا قبول کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو