زوجین میں نباہ نہ ہونے کی صورت میں مطالبہ طلاق
سوال
سید نے اپنی ایک بالغ لڑکی کی شادی بکر کے لڑکے عمر سے کر دی لڑکی سسرال چند بار آئی گئی، سسرال والوں نے لڑکی پر گھر کے کام اور کھیت کے کام کا بوجھ ڈالا لڑکی کی عمر پندرہ سال کی تھی وہ زیادہ کام کی عادی نہیں تھی تو لڑ کی کام کا بوجھ برداشت نہ کر سکی سسرال والے اس سلسلہ میں اس کو بہت تکلیف دیتے تھے، نوبت یہ پہنچی کہ لڑکی کی نگرانی شروع کر دی ہے، لڑکی کے والد سید کو خبر پہنچی تو وہ لینے کے لئے آئے، مگر انھوں نے نہیں بھیجا، بکر نے کہا کہ ہم نہیں بھیجیں گے، آخری بار یہ کہا کہ ہم کو زیور واپس کر دو تب ہم لڑکی واپس کریں…
جواب
اگر شوہر اپنی بیوی کو رکھنے اور آباد کرنے کے لئے آمادہ ہے، تو اس کو طلاق دینے پر مجبور نہیں کر سکتے، صرف بے جا زیادتی سے روکا جاسکتا ہے، جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہ غلط ہے، بہتر یہ ہے کہ بڑے با اثر معاملہ فہم آدمیوں کو درمیان میں ڈال کر شوہر سے کہا جائے کہ وہ کام کا بوجھ برداشت سے زیادہ نہ ڈالے اور ظلم وتشدد اختیار نہ کرے، اگر وہ مان جائے تو لڑکی کو سمجھا بجھا کر رخصت کر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔