الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

معافی مہر پر طلاق کی صورت

سوال

اگر کوئی شخص مسافت بعیدہ کی وجہ سے آنہیں سکتا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اپنی منکوحہ کو اس شرط پر طلاق دے کہ وہ اسکا مہر معاف کر دے تو اسکی کونسی صورت مناسب ہوگی۔ (۱) آیا وہ وہیں سے طلاق کو مہر کی معافی اور مہر کی معافی کی تحریر منجانب عورت پر معلق کر کے تحریری طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اس طرح پر طلاق کو مہر کی معافی کی تحریر پر معلق کرنے سے بلا معافی مہر کے طلاق کا وقوع تو نہیں ہوگا؟ (۲)

جواب

دونوں صورتیں شرعاً درست ہیں دونوں صورتوں میں بغیر معافی مہر طلاق واقع نہیں ہوگی کسی وکیل پر اعتماد ہو تو وکالت کی صورت اختیار کرلے خود زوجہ کی تحریر پر اعتماد زیادہ ہو تو بلا واسطہ زوجہ کی تحریر منگا لے اور معافی مہر کی تحریر پر معتمد گواہوں کے دستخط بھی کرالے، اگر عورت خلع کی درخواست دے کر بذریعہ عدالت مسلمہ بعوض معافی مہر نکاح فسخ کرالے تب بھی درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو