خلع کے لئے شوہر کی رضامندی ضروری ہے
سوال
عاصمہ کا وطن حیدر آباد ہے اسکا نکاح خسرو کے ساتھ اورنگ آباد میں ہوا، اورنگ آباد عاصمہ کے والدین کا وطن ہے، یہ نکاح عزیزوں میں ہی ہوا، رخصتی کے دوسرے ہی دن عاصمہ کے والدین وغیرہ کو علم ہوا کہ خسرو کے اپنی حقیقی تائری بھوج کو ساتھ نا جائز تعلقات ہیں، یہی وجہ لے کر وہ اپنے والدین وغیرہ سے علیحدہ اپنی اسی بھاوج کے گھر رہتا ہے، اور وہیں کھاتا پیتا ہے حتی کہ شادی بھی اسی گھر میں ہوئی، اور دولہا دلھن بھی اسی گھر میں رہے، چنانچہ اسکا علم ہونے پر سب کو بالخصوص عاصمہ کی والدہ کو دلی صدمہ پہونچا اور شادی کے ایک ماہ بعد…
جواب
ان تکالیف دہ حالات کے باوجود رشتہ زوجیت قائم ہے، خلع کے لئے شوہر کا رضا مند ہونا ضروری ہے، جب تک شوہر خلع کو منظور نہ کرے خلع نہیں ہوسکتا، اگر عاصمہ ان حالات کو برداشت نہیں کر سکتی تو کسی طرح با اثر آدمیوں کا واسطہ بنا کر یا مہر معاف کر کے یا کسی اور طرح شوہر سے طلاق حاصل کرلے کہ اگر خاندان کے معزز آدمی خسرو کے سامنے عاصمہ کی تکالیف بیان کر کے اس سے عہد لے لیں کہ وہ آئندہ ایسی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔