مہر اور نفقہ کے عوض طلاق بیوی کی منظوری پر
سوال
اشفاق احمد نے اپنے بھائی عاشق محمد اور اپنی والدہ کے اثر ودباؤ اور منشاء کے مطابق اپنی بیوی مسماۃ عظیماً کو طلاق دینے کی خواہش کا اظہار کیا، جبکہ عظیماً طلاق لینا نہیں چاہتی تھی، ساتھ ہی عاشق محمد نے یہ دھمکی بھی دی ہے، کہ اگر عظیما نے طلاق نہیں کی تو ہم گھر لا کر ظلم....... وزیادتی کریں گے، اور ناک نقشہ بگاڑ دیں گے، عظیماً کے والد نور اللہ خانصاحب نے جب اشفاق محمد کو سمجھایا تو جواب ملا کہ جو عاشق چاہیں گے وہی ہوگا، چناچہ اس دھمکی کے پیش نظر عظیما بی کے کچھ اعزہ نے ایک تحریر معافی نان نفقہ کی لکھ کر عظیما بی سے…
جواب
۱/۲/۳ تحریر میں طلاق مہر ونفقہ کے عوض ہے جو کہ بیوی کی منظوری پر موقوف ہے، اور خلع کے درجہ میں ہے، اگر بیوی نے منظور کر لیا تو طلاق بائن کا حکم ہوگا، ورنہ کوئی طلاق نہیں ہوگی، سوال میں درج ہے کہ بیوی نے اس کو منظور نہیں کیا، اور جو تحریر بیوی سے کہ گئی ہے وہ دھوکہ دیکر لی گئی ہے، اس لئے یہ تحریر بیکار گئی، اس سے نہ طلاق ہوئی نہ مہر معاف ہوا، البتہ جب اس کے بعد زبانی شوہر سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔