الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حلالہ کیلئے شوہر نکاح پڑھا سکتا ہے

سوال

(۱) میری دادی اور بیوی کے درمیان ہمیشہ لڑائی جھگڑا رہتا تھا، ایک دو مرتبہ مار پٹائی کی نوبت بھی آئی، میرے لاکھ سمجھانے کے باوجود بیوی باز نہیں آئی، تو میں نے یہ شرط لگائی کہ اگر آج کے بعد تو نے دادی صاحبہ کے ساتھ جھگڑا کیا تو تجھے تین نہیں چھ طلاق اور جس روز میں نے یہ شرط لگائی، اس دن جھگڑے میں مار پٹائی کی نوبت نہیں آئی، حسن اتفاق سے ایک سال تک جھگڑا موقوف رہا، اور ایک منحوس دن دادی صاحبہ اور بیوی کے درمیان جھگڑا ہو ہی گیا، لیکن مار پٹائی کی نوبت نہیں آئی، کیا اس جھگڑے کے بعد میری بیوی کو طلاق ہوئی یا نہیں؟ (۲)

جواب

(۱و۲) شروط پائے جانے پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی ہے عدت طلاق تین ماہواری گزرنے پر اگر مطلقہ دوسرے شخص سے نکاح کرنے پر رضامند ہو اور سابق شوہر (طلاق دینے والا) نکاح پڑھائے، تب بھی درست ہے، اگر دونوں مطلقہ اور شوہر ثانی مجلس میں موجود ہوں، اور سابق شوہر ایک گواہ کی موجودگی میں نکاح پڑھاوے تب بھی نکاح ہو جائے گا، اور یہ کہا جائے گا کہ اصل ایجاب وقبول تو اس مطلقہ اور شوہر جدید نے کیا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو